جب زندگی کا کوئی راستہ سمجھ نہ آئے، اللہ کی طرف لوٹ جاؤ

کبھی آپ کی زندگی میں ایسا لمحہ آیا ہے جب آپ کو سمجھ نہ آیا ہو کہ اب کیا کرنا ہے؟
نہ کوئی راستہ دکھائی دے، نہ کوئی فیصلہ درست محسوس ہو، نہ کسی انسان سے امید بندھے۔
ایسے لمحے میں انسان کو پہلی بار شاید یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا کتنا کم اختیار رکھتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے فیصلوں سے زندگی چلا رہے ہیں، اپنے منصوبوں سے مستقبل بنا رہے ہیں اور اپنی کوششوں سے حالات کو قابو میں رکھ رہے ہیں۔ پھر ایک دن کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو ہماری تمام تدبیروں کو ایک لمحے میں بے معنی کر دیتا ہے۔
اور تب انسان کے پاس دو راستے رہ جاتے ہیں:
یا تو وہ اپنی بے بسی میں ٹوٹ جائے، یا اپنے رب کے سامنے جھک جائے۔
پچھلے دنوں مجھے حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ سفر میرے لیے صرف ایک مقدس سفر نہیں تھا، بلکہ اپنے رب کے ساتھ تعلق کو نئے سرے سے محسوس کرنے کا ایک موقع بھی تھا۔
اسی دوران میری زندگی میں ایک عجیب و غریب آزمائش آئی۔
ابتدا میں مجھے بالکل سمجھ نہیں آیا کہ کیا کیا جائے۔ ذہن سوالات سے بھرا ہوا تھا، مگر جواب کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
پھر میں نے معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا۔
میں نے سوچنا، گھبرانا اور ہر چیز کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کچھ دیر کے لیے چھوڑ دی اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی کوشش کی۔
اور شاید اسی مقام پر مجھے ایک بہت بڑی حقیقت سمجھ آئی:
کبھی کبھی اللہ ہمیں آزمائش سے فوراً نہیں نکالتا، بلکہ آزمائش کے ذریعے اپنے قریب لے آتا ہے۔
شاید مسئلہ یہ نہیں کہ اللہ نے ہمیں چھوڑ دیا ہے
ہماری زندگی میں آزمائش آتی ہے تو ہم فوراً پوچھتے ہیں:
"میرے ساتھ ہی کیوں؟"
لیکن شاید ہمیں کبھی یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے:
"اللہ مجھے اس آزمائش کے ذریعے کیا سکھانا چاہتا ہے؟"
ہم اکثر خوشحالی میں اللہ سے غافل ہو جاتے ہیں۔
دنیا مصروف رکھتی ہے۔
کامیابیاں مصروف رکھتی ہیں۔
خواہشیں مصروف رکھتی ہیں۔
لوگ مصروف رکھتے ہیں۔
ہم نماز پڑھتے بھی ہیں تو کبھی عادت کے طور پر، دعا کرتے بھی ہیں تو کبھی ضرورت کے وقت، اور اللہ کو یاد بھی کرتے ہیں تو اکثر تب جب دنیا کے دروازے ہمارے لیے بند ہونے لگتے ہیں۔
پھر ایک آزمائش آتی ہے۔
اور اچانک وہی انسان جو دن بھر دنیا کے پیچھے بھاگ رہا تھا، رات کو تنہائی میں ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے:
"یا اللہ، اب تو ہی ہے۔"
کتنی عجیب بات ہے۔
ہم ساری زندگی اللہ کے محتاج ہوتے ہیں، مگر ہمیں اپنی محتاجی کا احساس اکثر تب ہوتا ہے جب باقی سہارے کمزور پڑ جاتے ہیں۔
جب انسان کے سارے سہارے ختم ہو جائیں
شاید ایمان کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ انسان کو آخرکار معلوم ہو جاتا ہے کہ اصل سہارا کون ہے۔
لوگ آپ کے ساتھ ہو سکتے ہیں، لیکن وہ آپ کی پوری زندگی اپنے کندھوں پر نہیں اٹھا سکتے۔
مال آپ کو سہولت دے سکتا ہے، مگر دل کا سکون نہیں خرید سکتا۔
کامیابی آپ کو مقام دے سکتی ہے، مگر ہر خوف ختم نہیں کر سکتی۔
اور دنیا کی کوئی چیز آپ کے دل کو وہ اطمینان نہیں دے سکتی جو اللہ سے تعلق پیدا کرتا ہے۔
اسی لیے قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو۔
یہ صرف ایک حکم نہیں، زندگی کا ایک راستہ ہے۔
جب دل پریشان ہو، نماز کی طرف جاؤ۔
جب راستہ بند ہو، دعا کی طرف جاؤ۔
جب کوئی سمجھ نہ پائے، اللہ سے بات کرو۔
جب حالات قابو سے باہر ہو جائیں، معاملہ اس کے سپرد کر دو۔
کیونکہ جس رب نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہ تمہاری خاموشی بھی جانتا ہے اور تمہارے دل کی وہ بات بھی جو تم کسی انسان سے نہیں کہہ سکتے۔
ہم سکون کہاں تلاش کر رہے ہیں؟
یہ سوال شاید ہم سب کو خود سے پوچھنا چاہیے۔
ہم خوشی کہاں تلاش کر رہے ہیں؟
کیا ہمیں لگتا ہے کہ زیادہ پیسہ ہمیں مکمل سکون دے دے گا؟
کیا کوئی خاص شخص ہماری زندگی میں آ جائے تو ہماری تمام بے چینیاں ختم ہو جائیں گی؟
کیا کامیابی کی اگلی منزل ہمیں ہمیشہ کے لیے مطمئن کر دے گی؟
یا پھر ہم ایک ایسی چیز دنیا سے مانگ رہے ہیں جو دنیا کے پاس ہے ہی نہیں؟
ہم ایک خواہش پوری کرتے ہیں اور دوسری خواہش ہمارے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔
ایک منزل حاصل کرتے ہیں، پھر اگلی منزل ہمیں اپنی طرف بلاتی ہے۔
ایک مسئلہ حل ہوتا ہے، دوسرا پیدا ہو جاتا ہے۔
تو پھر سکون کہاں ہے؟
شاید سکون کسی چیز کو حاصل کر لینے میں نہیں، بلکہ اپنے رب کو پا لینے میں ہے۔
لوگوں سے امید کم، اللہ سے امید زیادہ
ہمارے دل اکثر لوگوں سے امیدیں باندھ لیتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ فلاں شخص ہمیں کبھی مایوس نہ کرے۔
فلاں ہمیشہ ہمارا ساتھ دے۔
فلاں ہمیں سمجھے۔
فلاں ہمیں چھوڑ کر نہ جائے۔
لیکن انسان خود ایک کمزور مخلوق ہے۔
وہ بدل سکتا ہے۔
اس کے حالات بدل سکتے ہیں۔
اس کے ارادے بدل سکتے ہیں۔
حتیٰ کہ اس کی محبت بھی بدل سکتی ہے۔
تو پھر ہم اپنے دل کا آخری سہارا ایک انسان کو کیوں بنائیں؟
امید رکھو، مگر سب سے بڑی امید اللہ سے رکھو۔
لوگ وسیلہ بن سکتے ہیں، سہارا بن سکتے ہیں، محبت دے سکتے ہیں؛ مگر دل کا آخری بھروسہ صرف اللہ پر ہونا چاہیے۔
کیونکہ وہی دلوں کے حال جانتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ تم کیا چاہتے ہو۔
اور اس سے بھی بڑھ کر، وہ جانتا ہے کہ تمہیں حقیقت میں کیا چاہیے۔
ہر وہ چیز جو ہم چاہتے ہیں، ہمارے لیے بہتر نہیں ہوتی
یہ بات ماننا شاید سب سے مشکل ہے۔
ہم کسی چیز کو بہت چاہتے ہیں۔
پھر وہ ہمیں نہیں ملتی۔
ہم دعا کرتے ہیں۔
انتظار کرتے ہیں۔
امید رکھتے ہیں۔
پھر وہ چیز ہم سے دور ہو جاتی ہے۔
اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی۔
لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
کیا ہر وہ چیز جو ہم مانگتے ہیں، ہمارے لیے اچھی بھی ہوتی ہے؟
ہم صرف آج دیکھتے ہیں۔
اللہ ہمارا کل بھی جانتا ہے۔
ہم کسی راستے کی خوبصورتی دیکھتے ہیں۔
اللہ اس راستے کا انجام بھی دیکھتا ہے۔
ہم کسی شخص کو اپنی زندگی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔
اللہ جانتا ہے کہ اس تعلق کا انجام ہمارے حق میں کیا ہوگا۔
ہم کسی موقع کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔
اللہ جانتا ہے کہ اس موقع کے پیچھے کون سی آزمائش چھپی ہے۔
اسی لیے کبھی کبھی اللہ کا "نہیں" کہنا بھی اس کی رحمت ہوتا ہے۔
کبھی بند دروازہ سزا نہیں، حفاظت ہوتا ہے۔
کبھی کسی کا چلے جانا محرومی نہیں، نجات ہوتی ہے۔
اور کبھی ہماری ٹوٹی ہوئی خواہش کے پیچھے اللہ کی طرف سے کوئی ایسا بہتر فیصلہ چھپا ہوتا ہے جسے ہم اس وقت سمجھ ہی نہیں سکتے۔
کامل یقین کا مطلب یہ نہیں کہ آزمائش نہیں آئے گی
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارا اللہ پر ایمان مضبوط ہو جائے تو زندگی آسان ہو جائے گی۔
لیکن شاید حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ایمان یہ ضمانت نہیں کہ زندگی میں طوفان نہیں آئے گا۔
ایمان یہ یقین ہے کہ طوفان آئے گا تو اللہ ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔
پریشانی آئے گی، مگر ہم دعا کریں گے۔
دل ٹوٹے گا، مگر ہم اللہ سے جڑے رہیں گے۔
راستہ بند ہوگا، مگر ہم مایوس نہیں ہوں گے۔
کوئی اپنا چھوڑ جائے گا، مگر ہم جانیں گے کہ ہمارا رب ہمارے ساتھ ہے۔
اور جب کوئی چیز ہماری مرضی کے مطابق نہ ہو تو ہم یہ کہنے کی کوشش کریں گے:
"یا اللہ! مجھے سمجھ نہیں آ رہا، لیکن مجھے یقین ہے کہ تو بہتر جانتا ہے۔"
شاید یہی توکل ہے۔
انسان بہتر چاہتا ہے، اللہ بہترین جانتا ہے
انسان ہمیشہ بہتر کی تلاش میں رہتا ہے۔
بہتر زندگی۔
بہتر رشتہ۔
بہتر موقع۔
بہتر مستقبل۔
بہتر حالات۔
لیکن جب انسان کا اللہ پر یقین گہرا ہو جاتا ہے تو اس کی سوچ بدلنے لگتی ہے۔
وہ صرف یہ نہیں کہتا:
"یا اللہ، مجھے وہ دے جو میں چاہتا ہوں۔"
بلکہ وہ یہ کہنا سیکھ لیتا ہے:
"یا اللہ، مجھے وہ دے جو میرے حق میں بہتر ہے، چاہے میری خواہش کچھ اور کیوں نہ ہو۔"
یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔
کیونکہ یہاں انسان اپنی خواہش کو اللہ کے فیصلے کے تابع کر دیتا ہے۔
اور شاید اسی مقام سے دل کو وہ سکون ملنا شروع ہوتا ہے جو دنیا کی کوئی کامیابی نہیں دے سکتی۔
اللہ کی رسی کو مت چھوڑو
زندگی میں طوفان آتے رہیں گے۔
کبھی حالات کا طوفان۔
کبھی مالی مشکلات کا۔
کبھی رشتوں کا۔
کبھی تنہائی کا۔
کبھی اپنے ہی خیالات کا۔
ہم ہر طوفان کو روک نہیں سکتے۔
ہم ہر نقصان سے بچ نہیں سکتے۔
ہم ہر سوال کا جواب فوراً نہیں پا سکتے۔
لیکن ایک چیز ہمارے اختیار میں ہے:
ہم طوفان میں کس کو پکڑ کر رکھتے ہیں؟
اگر دنیا کے سہارے چھوٹ جائیں تو اللہ کی رسی مت چھوڑو۔
اگر دل ٹوٹ جائے تو نماز مت چھوڑو۔
اگر دعا کا جواب دیر سے ملے تو دعا مت چھوڑو۔
اگر کوئی انسان تمہیں چھوڑ دے تو اللہ سے تعلق مت چھوڑو۔
اگر تمہیں سمجھ نہ آئے کہ آگے کیا کرنا ہے تو اپنے رب پر بھروسہ کرنا مت چھوڑو۔
کیونکہ بعض اوقات اللہ ہمیں وہاں سے نہیں نکالتا جہاں ہم نکلنا چاہتے ہیں۔
وہ ہمیں وہاں لے جاتا ہے جہاں ہمیں پہنچنا چاہیے۔
اور شاید اصل کامیابی یہی ہے
کامیابی صرف یہ نہیں کہ ہماری زندگی ہماری خواہش کے مطابق گزرے۔
کامیابی شاید یہ ہے کہ زندگی چاہے جس راستے سے گزرے، ہم اللہ سے دور نہ ہوں۔
ہم خوش ہوں تو شکر کریں۔
ہم غم میں ہوں تو صبر کریں۔
ہمیں ملے تو الحمدللہ کہیں۔
ہم سے چھن جائے تو بھی اللہ پر بدگمان نہ ہوں۔
ہم راستہ سمجھ نہ پائیں تو بھی اپنے رب پر یقین رکھیں۔
کیونکہ ہمیں اپنی پوری کہانی معلوم نہیں۔
ہم صرف ایک صفحہ دیکھ رہے ہیں۔
اللہ پوری کتاب جانتا ہے۔
اس لیے اگر آج زندگی میں کوئی دروازہ بند ہے، تو ضروری نہیں کہ کہانی ختم ہو گئی ہو۔
شاید اللہ تمہیں کسی اور دروازے تک لے جا رہا ہے۔
اگر آج کوئی چیز تم سے چھن گئی ہے، تو ضروری نہیں کہ یہ تمہاری محرومی ہو۔
شاید اللہ تمہیں کسی ایسی چیز سے بچا رہا ہے جس کا تمہیں علم نہیں۔
اور اگر آج تم آزمائش میں ہو تو شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ:
"یہ میرے ساتھ کیوں ہو رہا ہے؟"
بلکہ شاید سوال یہ ہے:
"کیا اس آزمائش کے دوران میرا اللہ سے تعلق پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہا ہے؟"
کیونکہ کبھی کبھی آزمائش کا مقصد حالات کو بدلنا نہیں ہوتا۔
انسان کو بدلنا ہوتا ہے۔
اور جب انسان اپنے رب کے قریب ہو جائے تو شاید وہ سمجھ لیتا ہے کہ:
اللہ کی رسی مضبوطی سے تھام لی جائے تو ہر طوفان سے گزرنے کی امید باقی رہتی ہے۔
طوفان ہمیشہ نہیں رہتا۔
رات ہمیشہ نہیں رہتی۔
مشکل ہمیشہ نہیں رہتی۔
لیکن اگر اس دوران اللہ کا ہاتھ تھامے رکھا جائے، تو انسان صرف طوفان سے باہر نہیں نکلتا—
وہ طوفان کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ مطمئن اور اپنے رب کے زیادہ قریب ہو کر نکلتا ہے۔
اللہ ہمیں ایسا یقین عطا فرمائے جو حالات کے بدلنے کا محتاج نہ ہو، ایسا صبر دے جو آزمائش میں قائم رہے، اور ایسا تعلق عطا کرے کہ خوشی ہو یا غم، ہمارا دل اسی کی طرف لوٹتا رہے۔ آمین۔
New essays, occasionally.
No spam. Unsubscribe any time.