Skip to content
1 MIN · ESSAY

انسان غلطیوں سے نہیں، رویّوں سے پہچانا جاتا ہے

Mohammed Zaheeruddin
Mohammed Zaheeruddin
2026-05-19
Size
Font

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔
ایک وہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی غلطی نہیں کرتے،
اور دوسرے وہ جو یہ مانتے ہیں کہ غلطی ہر انسان سے ہو سکتی ہے — خود اُن سے بھی۔
پہلی قسم کے لوگ آہستہ آہستہ اس وہم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ دنیا کا ہر دوسرا شخص غلط ہے اور صرف وہی درست ہیں۔ پھر وہ صرف اُنہی لوگوں کو اپنے قریب رکھتے ہیں جو اُن کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملائیں اور اُن کی غلط فہمیوں کو سچ کا رنگ دے دیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان رشتوں کو نبھانے سے بڑا بنتا ہے، ہر بات پر فیصلے سنانے سے نہیں۔
اگر کبھی آپ کو محسوس ہو کہ کوئی شخص غلطی کر رہا ہے، تو اُسے سمجھانے، سننے اور اصلاح کی کوشش کرنے کے بجائے اگر آپ فوراً فاصلے پیدا کرنے لگیں، تو ایک دن آپ خود کو تنہائی کے بیچ کھڑا پائیں گے۔
معاف کرنا، درگزر کرنا، اور دوسروں کی کمزوریوں کو برداشت کرتے ہوئے ساتھ لے کر چلنا ہی اصل مضبوطی اور کامیابی کی علامت ہے۔
کیونکہ جب انسان دوسروں کی غلطیاں گننا شروع کر دیتا ہے تو اُس کے دل میں بدگمانی جنم لینے لگتی ہے۔ پھر اُسے ہر شخص مکار، شاطر، خود غرض اور فریبی دکھائی دینے لگتا ہے۔
حوصلہ یہ نہیں کہ انسان خاموشی سے دور ہو جائے،
بلکہ اصل ہمت یہ ہے کہ سامنے والے سے بات کی جائے، مسئلے کو سمجھا جائے اور مل کر اُس کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے۔
جو لوگ بات کرنے کے بجائے صرف الزام تراشی کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے خوف اور کمزوری کو چھپا رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ایک ڈرپوک انسان کے پاس دوسروں پر انگلی اٹھانے کے سوا اکثر کوئی اور ہنر نہیں ہوتا۔

Share WhatsApp X
Stay in loop

New essays, occasionally.

No spam. Unsubscribe any time.

Comments
Join the conversation
Sign in with Google to leave a comment. We’ll only show your name and photo.