ڈاکٹر معید الدین اظہر

ڈاکٹر محمد معید الدین اظہر میرے بڑے بھائی ہیں۔ ان کی پیدائش 1987 میں ہوئی، اس لحاظ سے اس وقت ان کی عمر تقریباً 39 برس ہے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم سے لے کر دسویں جماعت تک شہباز انگلش میڈیم اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انٹرمیڈیٹ فاران کالج سے کیا۔ وہ شروع ہی سے ذہین طالب علم تھے، لیکن میں نے خاص طور پر محسوس کیا کہ جب انہوں نے حفظِ قرآن کا آغاز کیا تو ان کی تعلیمی دلچسپی اور یکسوئی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
سن 2003 میں انہوں نے انٹرمیڈیٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ انہیں ایم بی بی ایس کے لیے فری سیٹ ملی اور انہوں نے نوودیا میڈیکل کالج، رائچور سے اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی۔ ابتدا میں وہ اپنے ماموں محمد صلاح الدین کے ساتھ مقیم رہے، لیکن جب ماموں میسور منتقل ہوگئے تو وہ رائچور میں خود رہنے لگے۔
ایم بی بی ایس کے بعد انہوں نے منی پال سے جنرل میڈیسن میں ایم ڈی کیا۔ دورانِ تعلیم ہی والد صاحب نے ان کی شادی ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب کی بڑی صاحبزادی، ڈاکٹر سارہ صدیقی سے طے کردی۔
ایم ڈی کے بعد ڈاکٹر اظہر نے گاندھی میڈیکل کالج، حیدرآباد سے نفرولوجی میں ڈی ایم کیا اور گلبرگہ واپس آگئے۔ اس وقت ان کے پاس بیرونِ ملک، خصوصاً یورپ میں، پرکشش مواقع موجود تھے جہاں انہیں ماہانہ 12سے 15لاکھ روپے تک بآسانی مل سکتے تھے۔ اس کے علاوہ بیجاپور اور دیگر مقامات سے بھی اچھے مواقع پیش کیے جارہے تھے۔
انہوں نے اس سلسلے میں والد صاحب سے مشورہ کیا، جنہوں نے انہیں اپنے شہر میں رہ کر لوگوں کی خدمت کرنے کا مشورہ دیا۔ والد کے اس مشورے کو ترجیح دیتے ہوئے ڈاکٹر اظہر نے گلبرگہ میں “ایشین کڈنی کیئر” کے نام سے جگت سرکل کے قریب ایک سیٹ اپ قائم کیا۔
اسی دوران وہ ای ایس آئی میڈیکل کالج ہسپتال میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ تقریباً تین سال تک انہوں نے مختلف مقامات پر کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات جاری رکھیں۔
ڈاکٹر اظہر کی دیرینہ خواہش تھی کہ ایک معیاری ہسپتال قائم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے ساتھی ڈاکٹروں کے ساتھ کئی منصوبوں پر غور کیا۔ بالآخر ٹیپو سلطان کالج کے قریب “ایشین ہاسپٹل” کا قیام عمل میں آیا۔ اس ہسپتال کی تکمیل میں تقریباً دو سال لگے، اور صبر، حکمتِ عملی اور محنت کے ساتھ اسے ایک مضبوط ادارہ بنایا گیا۔
آج اس ہسپتال کے ذریعے اللہ کے فضل سے تقریباً 100 افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ہسپتال کے قیام کے بعد ڈاکٹر اظہر نے اپنی پوری توجہ اسی ادارے پر مرکوز کردی اور دیگر ہسپتالوں میں کنسلٹنسی ترک کردی۔
ایشین ہاسپٹل اب گلبرگہ کا ایک معتبر، صاف ستھرا اور مناسب فیس پر علاج فراہم کرنے والا نمایاں طبی مرکز بن چکا ہے۔
ذاتی زندگی میں ڈاکٹر اظہر نہایت سادہ مزاج ہیں۔ وہ نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور غیر ضروری تشہیر، میڈیا اور نمود و نمائش سے دور رہتے ہیں۔ تاہم اگر کسی طبی کیمپ یا موقع پر اظہارِ خیال کی درخواست کی جائے تو نہایت مؤثر اور مدلل انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔
ڈاکٹر اظہر چائے سے پرہیز کرتے ہیں، کھانے میں مندی اور کسٹرڈ پسند کرتے ہیں۔
ان کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ صدیقی نے پیتھولوجی میں ایم ڈی کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ہے۔
اگر وہ چاہتے تو بیرونِ ملک جا کر نہایت آسودہ زندگی گزار سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنے لوگوں کے درمیان رہ کر خدمتِ خلق کو ترجیح دی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ڈاکٹر اظہر کی اس بے لوث خدمت کو قبول فرمائے اور انہیں بہترین اجر عطا کرے، اور ہمارے والدین کو بھی جزائے خیر دے کہ انہوں نے ایسے باکردار اور مثالی ڈاکٹر کی تربیت کی۔
New essays, occasionally.
No spam. Unsubscribe any time.