میری والدہ

میری والدہ کا نام آمینہ بیگم ہے۔
کاغذات کے مطابق ان کی پیدائش ۱۹۶۰ء میں ہوئی۔ ۲۰۲۶ء کے حساب سے ان کی عمر ۶۶ برس ہے۔ آپ نے دسویں جماعت تک رائچور میں تعلیم حاصل کی اور شادی کے بعد بی بی رضا کالج سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا۔
بہن بھائیوں میں میری والدہ سب سے بڑی ہیں، اسی وجہ سے وہ اپنے والدین کے بہت قریب رہی ہیں۔
نانا اور نانی کا مختصر تعارف
میرے نانا جان کا نام ریاض الدین پٹیل اور نانی امی کا نام محمودہ بیگم تھا۔ نانا اور نانی دونوں گزشتہ سال دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ نانی کی پیدائش نند گاؤں میں ہوئی تھی۔
میرے نانا، ریاض الدین پٹیل صاحب، کے ایس آر ٹی سی میں بس ڈرائیور تھے۔ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ رائچور شہر میں گزرا۔ آپ راجیشور/راجسور اور ہلی کھیڑ گاؤں میں پلے بڑھے۔ ۱۹۵۰ء کے آس پاس آپ نے گلبرگہ میں لال احمد صاحب کے گیراج میں کام سیکھا، جس کے بعد آپ کو سرکاری ملازمت حاصل ہوئی۔
گو کہ نانا جان نے باضابطہ اسکول سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی، لیکن آپ کو علم سے بہت شغف تھا۔ آپ ہمیشہ دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔
دینی علم اور اخلاقیات کے باعث آپ کے اخلاق کا معیار بلند تھا۔ آپ اپنے بچوں کو ہمیشہ عزت اور احترام سے مخاطب کرتے تھے۔
میری والدہ کے چھوٹے بھائیوں کے نام یہ ہیں: محمد سلیم الدین پٹیل، محمد قمرالدین پٹیل، محمد جلال الدین پٹیل (جو گزشتہ سال انتقال کر گئے)، محمد فہیم الدین پٹیل، محمد صلاح الدین پٹیل، اور محمد نصیرالدین پٹیل۔
ان کی تین چھوٹی بہنیں ہیں: شاہین بیگم، ریحانہ بیگم اور فرزانہ بیگم۔
ازدواجی زندگی
والدہ کی شادی ۱۹۷۹ء میں ہوئی۔ ان کا سسرال گلبرگہ کے روزہ علاقے میں تھا۔ شادی کے ابتدائی سال وہیں گزرے، جہاں انہیں چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہوئے۔ چھ بچوں کے ساتھ ایک ٹین شیڈ کے کمرے میں زندگی گزارنا آج کے دور میں بہت مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن انہوں نے بغیر کسی شکایت کے دس سال گزارے۔
اس کے بعد ہمارے والد صاحب نے کے بی این کالج کے قریب ایک گھر تعمیر کیا، جہاں میری اور میری چھوٹی بہن کی پیدائش ہوئی۔
گھریلو زندگی اور قربانیاں
والدہ میں شروع سے ہی گھر کو سنوار کر سلیقے سے زندگی گزارنے کا ہنر موجود رہا ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنے گھر میں صفائی دیکھی ہے۔ اس کا سہرا میری نانی امی کو بھی جاتا ہے، جنہوں نے والدہ کو بچپن سے ہی کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ گھر کو صاف ستھرا رکھنے کا سلیقہ سکھایا۔
چونکہ میرے والد صاحب دن بھر اپنے کاموں میں مصروف رہتے تھے، اس لیے والدہ ہی گھر کی تمام ذمہ داریاں سنبھالتی تھیں۔ بچوں کو اسکول چھوڑنا، ان کی تعلیم کا خیال رکھنا، کھانا کھلانا، کپڑے اور برتن دھونا—یہ سب کام وہ اکیلے انجام دیتی تھیں۔ بعد میں گھر کے کاموں کے لیے ملازمہ رکھ لی گئی، لیکن کھانا بنانے کا کام وہ خود ہی کرتی تھیں۔
میرے تمام بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے میں میری والدہ کا بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے اپنی قربانیوں سے ہمیں معاشرے کا کامیاب اور باعزت فرد بنایا۔
والد صاحب کی کامیابی کے پیچھے بھی اصل وجہ میری والدہ ہی ہیں، جنہوں نے ہمیشہ والد صاحب کے کاموں میں آسانیاں پیدا کیں۔
انہوں نے کبھی ریسٹورنٹ میں جا کر کھانے کی خواہش ظاہر نہیں کی اور نہ ہی تفریح کے لیے کہیں جانے کی فرمائش کی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کے لیے وقف کر دی اور اپنی ذات کے لیے کبھی کچھ نہیں چاہا۔
۱۹۹۶ء میں انہیں میرے والد کے ساتھ حج کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
میں نے اپنی والدہ کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارا، لیکن اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ آج میرے اندر اگر کوئی اچھائی دیکھی گئی ہو تو وہ میری والدہ کی قربانیوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔
اللہ تعالیٰ میری والدہ کو صحت مند رکھے اور ان کی قربانیوں کے صلے میں انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
New essays, occasionally.
No spam. Unsubscribe any time.