میرے والد


میرے والد کا نام محمد عظیم الدین ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں، اس لیے سب لوگ انہیں وکیل صاحب کہتے ہیں۔
کاغذات کے مطابق ان کی پیدائش ۱۹۴۹ کی ہے، یعنی فی الحال تقریباً ۷۷ برس کی عمر ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ دراز عطا فرمائے، آمین۔
کہتے ہیں کہ جب میرے والد صرف ۴ برس کے تھے تو میرے دادا جان کا انتقال ہوگیا تھا۔
والد صاحب کی دیکھ بھال میرے بڑے ابا نے کی، جن کا نام عبدالغنی ہے۔ بفضلِ تعالیٰ وہ ابھی حیات ہیں۔
عبدالغنی صاحب، یعنی میرے بڑے ابا، درزی کا کام کرتے تھے۔ ان کی عمر اب تقریباً ۹۲ برس سے زائد ہے۔
بڑے ابا نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، لیکن شروع سے ہی ان کی خواہش تھی کہ ان کا چھوٹا بھائی اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔
یہ الگ بات ہے کہ والد صاحب کو تعلیم سے زیادہ دلچسپی کھیل کود، تیراکی، درختوں پر چڑھ کر املی توڑنے اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے میں تھی۔
ایک دفعہ بڑے ابا نے والد صاحب کے استاد سے پوچھا کہ "میرے چھوٹے بھائی کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟" تو استاد نے جواب دیا: "بھئی، آپ کا لڑکا تو اسکول آتا ہی نہیں!"
پتا چلا کہ وہ اسکول جانے کے نام پر بستہ لے کر گھومنے پھرنے جایا کرتے تھے۔ یہ جان کر بڑے ابا کو بہت غصہ آیا۔ انہوں نے نہ صرف ڈانٹ لگائی بلکہ ان کے ہاتھ بھی داغ دیے۔
اس زمانے میں سزا کے طور پر ہاتھ پاؤں کو داغنا عام بات تھی تاکہ تکلیف کا احساس ہو۔
والد صاحب کہتے ہیں کہ میرے بڑے بھائی کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے مجھ پر سختی کی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج میں کامیاب ہوں۔
دادا جان کو میں نے بھی نہیں دیکھا، لیکن ان کی ایک تصویر دیکھی ہے۔
کہتے ہیں کہ جب بڑی دادی کا انتقال ہوا تو دادا جان نے دوسری شادی کی تھی۔ عبدالغنی صاحب، شیخ سالم صاحب (جو میرے منجھلے بڑے ابا تھے اور اب انتقال کرچکے ہیں)، اور میرے والد دوسری والدہ کے بچے ہیں۔
لڑکیوں میں چار پھوپیاں ہماری سگی دادی سے ہوئیں: خواجہ بی، خورشید بی، سلمیٰ بی اور عائشہ بی۔
ان میں سے خواجہ بی اور سلمیٰ بی وفات پاچکی ہیں۔
ان سب بہن بھائیوں میں میرے والد سب سے چھوٹے ہیں۔
جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، والد صاحب پر کافی سختیاں ہوئیں، تب جا کر وہ پڑھائی میں دلچسپی لینے لگے۔
ایک واقعہ ہے کہ ایس بی کالج میں امتحان کے نتائج دیے جا رہے تھے، جس میں والد صاحب کے نمبر کم آئے تھے، جبکہ ایک لڑکے کے بہت اچھے نمبر آئے تھے۔
جب اس لڑکے کا نام پکارا گیا تو اتفاق سے وہ غیر حاضر تھا۔ والد صاحب نے جا کر اس کی جوابی کاپی لے لی اور گھر آ کر اس کا جائزہ لیا۔
انہیں یہ جستجو ہوئی کہ اس لڑکے کو زیادہ نمبر کیسے ملے۔ اس کی محنت دیکھ کر والد صاحب میں بھی پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔
انہوں نے کامیابی کے ساتھ بی اے اور ایل ایل بی مکمل کیا۔ ماسٹرز کے لیے وہ دھارواڑ–ہبلی گئے۔
۱۹۷۹ میں سلمیٰ بی پھوپی کے ذریعے والدہ کا رائچور سے رشتہ آیا اور اسی سال شادی ہوئی۔
والد صاحب کے ہاں ۵ بیٹیاں اور ۳ بیٹے ہوئے۔ ۲۰۱۸ تک وہ تمام بچوں کی شادیوں کی ذمہ داریوں سے فارغ ہوگئے۔
وکیل کے پیشے میں آمدنی زیادہ نہیں تھی، لیکن پھر بھی انہوں نے بچوں کی پرورش احسن طریقے سے کی۔ زمین کے کاروبار میں آنے کے بعد ان کی معاشی حالت بہتر ہوئی۔
والد صاحب نے ۱۹۸۰ کی دہائی کے آخر میں ایک تعلیمی ٹرسٹ کی بنیاد رکھی، جس کا نام شیرِ میسور حضرت ٹیپو سلطان رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر رکھا۔
اس ٹرسٹ کے تحت ٹیپو سلطان کالج آف فارمیسی کو ۱۹۹۰ میں فارمیسی کونسل آف انڈیا سے منظوری ملی۔
یہ وہی سال اور دن تھا جب میری پیدائش ہوئی، یعنی ۱۰ اپریل ۱۹۹۰۔ اسی مناسبت سے والد صاحب نے میرا نام بھی ٹیپو رکھا۔
۱۹۹۸ میں والد صاحب نے اسی ٹرسٹ کے تحت ملت نگر رنگ روڈ پر ایک یونانی کالج کی بنیاد رکھی۔ اتفاق سے میری پانچوں بہنوں نے اپنی ڈگری اسی کالج سے حاصل کی۔
والد صاحب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ جمع کر کے رکھنے کے قائل نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ۳–۴ لے آؤٹس بنائے، لیکن جب بھی ضرورت پڑی، پلاٹس فروخت کرتے رہے۔
وہ کہتے ہیں کہ بچوں کی تعلیم اور شادیوں کے لیے یہ ضروری تھا۔
میرے بڑے بھائی ڈاکٹر معید الدین اظہر نیفرولوجسٹ ہیں (گردوں کے ڈاکٹر)، جبکہ دوسرے بھائی ڈاکٹر شفیع الدین مظہر ای این ٹی سرجن ہیں۔
والد صاحب نے اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ مل کر ۲۰۲۴ میں ایشین ہسپتال کی بنیاد رکھی، جو گلبرگہ کا ایک معتبر ہسپتال ہے۔
۲۰۱۸ میں میں نے بلہاری سے ایم بی اے کیا اور بیرونِ ملک کام کرنے کی خواہش ظاہر کی، مگر والد صاحب نے مجھے گلبرگہ واپس آنے کو کہا۔
میرے واپس آنے کے بعد انہوں نے نوبل کالج آف فارمیسی کی بنیاد رکھی، اور اگلے ہی سال نوبل پیرا میڈیکل کالج قائم کیا۔
چند ہی سالوں میں آکسفورڈ پری یونیورسٹی کالج بھی قائم کیا گیا۔
والد صاحب کے اندر مسلسل کچھ نہ کچھ کرنے کا جذبہ ہے۔ میں نے انہیں کبھی خاموش بیٹھے نہیں دیکھا۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کئی ادارے وجود میں آچکے ہیں۔
وہ اکثر کام ٹیم کے ساتھ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹیم ورک کے لیے ایثار، قربانی اور برداشت ضروری ہیں۔
والد صاحب نے نہ صرف تعلیمی ادارے اور ہسپتال قائم کیے بلکہ سماجی خدمات میں بھی ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
وہ زکوٰۃ سینٹر آف انڈیا، شاخ گلبرگہ کے صدر ہیں اور کرناٹک مسلم پولیٹیکل فورم کے بھی صدر ہیں۔
وہ ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔
ذاتی زندگی میں بھی نمازوں کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ میں نے اکثر انہیں سفر کے دوران جیب میں چھوٹی جائے نماز رکھتے دیکھا ہے۔
وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی کو ان سے تکلیف نہ پہنچے اور دوسروں کے کام آئیں۔
میرے والد میرے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کبھی ان جیسا بن پاؤں گا یا نہیں۔
ان کے بارے میں لکھنے کے لیے میرے پاس بہت کچھ ہے، لیکن فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔
مجھے فخر ہے کہ میرے والد نہ صرف نام کے عظیم ہیں بلکہ ان کے اوصاف بھی عظیم ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں ان کے تمام نیک اعمال کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔
میری دعا ہے کہ وہ ہمیشہ خوش اور صحت مند رہیں، اور ان کا سایہ ہم پر برقرار ہے۔
New essays, occasionally.
No spam. Unsubscribe any time.